عمران حکومت کا احتساب ڈرامہ نہیں ، اس احتساب کو بند کرنے کا مطالبات کے پیچھے دراصل کیا ڈرامہ ہے ؟ سینئر پاکستانی صحافی نے حقیقت قوم کے سامنے رکھ دی - Pakistan Point

Breaking

Post Top Ad

July 26, 2020

عمران حکومت کا احتساب ڈرامہ نہیں ، اس احتساب کو بند کرنے کا مطالبات کے پیچھے دراصل کیا ڈرامہ ہے ؟ سینئر پاکستانی صحافی نے حقیقت قوم کے سامنے رکھ دی


ہور (ویب ڈیسک) عمران خان کی حکومت نے احتسابی عمل کو شفاف اور موثر بنانے کے جو دعوے کیے تھے ان میں ابھی تک کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی سوائے یہ کہ ان کی حکومت بھی پیشرو حکومتوں کی طرح اسی پرانی ڈگر پر چل پڑی ہے کہ اپوزیشن کا احتساب جاری رکھو اور اپنی طرف اٹھنے والی انگلیوں کو نظر انداز کر دو۔ نامور کالم نگار و سنیئر صحافی عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بدقسمتی یہ رہی کہ نیب جیسا فعال محکمہ ابھی تک اپنے ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا جس کی وجہ سے عدالتوں میں اس کی مسلسل سبکی ہو رہی ہے۔عدالت میں زبانی کلامی باتوں اور اخباری بیانوںکی جگہ ثبوت درکار ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر سزا اور جزا کے فیصلے ہوتے ہیں لیکن نیب اپنے ملزموں کے خلاف ثبوت فراہم نہیں کر سکا جس کی وجہ سے نیب کے ملزمان عدالتوں سے باعزت رہا ہورہے ہیں اور اپوزیشن کو ہلا شیری مل رہی ہے اور وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ نیب سیاسی انتقام لے رہا ہے نیب کے کیسوں میں حقیقت نہیں ہے۔حالانکہ اگر دیکھا جائے تو نیب نے جو بھی ملزم پکڑے ہیں ان کے لیے ہمیں باتیں اور ثبوت نہیں چاہئیں جن کی کل اور آج کی زندگی ہمار ے سامنے ہو اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہو تو اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ آج کروڑوں میں کھیلنے والا بتائے کہ یہ دولت کہاں سے آئی لیکن عمران خان کے بقول ثبوت والے بھی بہت ہیں لیکن ابھی تک یہ ثبوت سامنے نہیں لائے جا سکے ۔بڑی بات یہ ہو رہی ہے کہ بڑے بڑے سماجی اور سیاسی مرتبے والے لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے جس سے نادار لوگوں کے دلوں کوسکون ملا ہے جن کی غربت ان کی امارات کی اصل کہانی بیان کرتی ہے وہ اپنے ان ملزموں کو سزا یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے کس غیر انسانی جذبے سے کرپشن کی ہے اور اپنے جیسے انسانوں کا حق مارا ہے ۔ اگر قوم کے پیٹ میں روٹی کے چند ٹکڑے ہی ہوتے تو وہ اس پکڑ دھکڑ کی خوشی میں چراغاں کرتی کیونکہ پاکستان میں یہ معمولی بات نہیں ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بڑے لوگ جب پکڑ میں آتے ہیں تو اپنی سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے احتساب کے خلاف اکٹھے ہو کر اس کو ناکام بنا دیتے ہیں اور یہی آج کل ہو رہا ہے ۔احتساب کے مکمل عمل کو ہی مشکوک بنا دیا گیا ہے اور مطالبہ یہ ہو رہا ہے کہ نیب کو ختم کردیا جائے تا کہ وہ اپنی لوٹ مار جاری رکھ سکیںماضی اور مستقبل میں کی جانے والی لوٹ مار کا انھیں حساب نہ دینا پڑے ۔ ایساکب تک چلتا رہے گا یہ خدا ہی جانتا ہے یہ بات ضرور ہے کہ یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ۔ احتساب کی افادیت میں کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ کام صرف وہی حکومت کر سکتی ہے جس کو سیاستدانوں اور بااثر لوگوں کی خوشنودی درکار نہ ہو سیاسی حکومت یا جس حکومت میں سیاستدان شریک ہوں اس میں احتساب کا عمل جاری نہیں رہ سکتا ۔یہی آج کی حقیقت ہے

No comments: