بریکنگ نیوز: بھارت نے چین اور پاکستان کو نیچا دکھانے اور شرمندگی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل سے کیا چیز مانگ لی ؟ ایک خبر نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی - Pakistan Point

Breaking

Post Top Ad

August 29, 2020

بریکنگ نیوز: بھارت نے چین اور پاکستان کو نیچا دکھانے اور شرمندگی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل سے کیا چیز مانگ لی ؟ ایک خبر نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی

 

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا میں میڈیا نے اسرائیل سے مزید دو ’آواکس‘ خریدنے کی منظوری دیے جانے سے متعلق خبر دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ چین کی ساتھ سرحد پر کشیدگی کے پیشِ نظر بھی کیا جا رہا ہے۔انڈین میڈیا کے مطابق آئندہ چند روز میں کابینہ کی سکیورٹی کمیٹی کی جانب سے اس معاہدے کی منظوری دے دی جائے گی۔ نامور صحافی ثقلین امام بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انڈیا کی حکومت اور اس کے حامی چین کے ساتھ کشیدگی کے بعد اب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا چین کے ساتھ ایک بڑی لڑائی کی تیاری کر رہا ہے جس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل کے ساتھ آواکس کے اس معاہدے کی حتمی منظوری کی خبر کو بھی چین کے ساتھ موجودہ کشیدگی سے جوڑ کر بی جے پی کی حکومت عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ چین سے سرحدی تنازعے کے لیے فوجی تیاری میں زیادہ فعال ہو رہی ہے۔جدید وار کے دوران زمین اور فضا میں پرواز کرنے والے سرویلینس (فضائی نگرانی) کا نظام فضائی دفاع کی کاروائیوں کے لیے ایک سازگار ماحول تیار کرتا ہے جسے عام زبان میں ائر ‘سرویلینس سسٹم’ کہتے ہیں اور اس کی مدد سے فضائیہ اٹیک کرتی ہے یا اٹیک کو روکنے کی کارروائی کرتی ہے۔ فضا میں پرواز کرتا ہوا سرویلینس کا نظام یا جسے مختصراً ‘آواکس’ (ائربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم) کہا جاتا ہے، اسے ان جگہوں یا ‘سپاٹس’ پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں زمین سے کی جانے والی سرویلینس ممکن نہیں ہوتی ہے۔موجودہ حالات میں انڈیا کا اسرائیل سے دو اور آواکس خریدنے کے منصوبے پر پیش رفت انڈیا کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ بالاکوٹ کے واقعہ کے بعد جب پاکستان نے انڈیا کا طیارہ مار گرایا تھا تو اس وقت سے انڈیا میں آواکس کی ضرورت پر بحث دوبارہ سے چھڑ گئی تھی۔ انڈیا میں چین کی سرحد پر کشیدگی میڈیا پر اب بھی ایک بڑا موضوع ہے۔ فرانس سے رفال لڑاکا طیاروں کی آمد اور اب آواکس خریدنے کی کابینہ کی جانب سے منظوری، دونوں کو چین سے کشیدگی کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے جو اسی برس مئی میں شروع ہوئی ہے۔ انڈیا کو دیے گئے تین آواکس پاکستان کی فضا کی نگرانی کر رہے ہیں اور وہ اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی کی زمین کو دیکھ سکتے ہیں۔ ‘ان حالات میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے دو آواکس کہاں تعینات کیے جائیں گے۔’انڈیا میں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینیئر فیلو اور سکیورٹی اور سٹریٹیجک امور کے تجزیہ کار سوشانت سرین تسلیم کرتے ہیں کہ رفال ڈیل کافی عرصے پہلے طے پائی تھی لیکن کووِڈ کی وجہ سے اس کی پہلی سپلائی میں تاخیر ہوئی۔ ‘تاہم چین کی سرحد پر کشیدگی نے ان طیاروں کے حصول کی کوششوں میں تیزی پیدا کی۔’اسرائیل کے چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کے ساتھ اس کی پندرہ ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوتی ہے۔ لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے اسرائیل اپنی دفاعی ٹیکنالوجی چین کو نہیں دے پا رہا ہے۔’دلی میں مقیم دفاعی تـجزیہ کار راؤل بیدی کہتے ہیں کہ آواکس کی خریداری کی یہ ڈیل گزشتہ سات آٹھ برسوں سے جاری ہے اور اگر فرض کریں کہ یہ کل فائنل ہوجائے تب بھی ان سرویلینس طیاروں کے حقیقی طور پر حصول میں 24 مہینے لگ سکتے ہیں۔’اصل میں آج کل ہر بات کو چین کے ساتھ کشیدگی سے جوڑ کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اور تینوں افواج کے سربراہان یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے کسی بھی فوجی سامان کی خریداری کے سودے کو تیزی سے منظور کرایا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ ان حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، بس فرق یہ ہے کہ یہ سودا بہت بڑا ہے۔’فی الحال تو دو مزید آواکس کے حصول کی بات کاغذات کی حد تک ہے۔ تاہم کیا نئے آواکس کے آنے ے پاکستان کو کوئی خاص فرق پڑے گا؟پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر فہد مسعود کہتے ہیں کہ انڈیا میں دو نئے آواکس کے حصول کی خبر پر اُسی قسم کا ہیجان دیکھا جا رہا ہے جو رفال کے حصول کے موقعے پر دیکھا گیا تھا۔’لیکن اس وقت میڈیا پر اوس پڑ گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ رفال طیاروں کو باقاعدہ ایکشن میں آنے میں ایک برس لگ سکتا ہے۔”اسی طرح آواکس سرویلینس کے لحاظ سے شاید ہی طاقت کے موجودہ توازن میں کوئی تبدیلی لاسکیں، جس کی دو وجوہات ہیں: ایک یہ کہ ان کی تیاری میں دو برس لگیں گے، دوسرا یہ کہ ان دو طیاروں کے مقابلے میں (پاکستان کے) 27 طیارے ایک بہت بڑا فرق ہے۔'(بشکریہ : بی بی سی ) 

No comments: