عوام کے سامنے محبت کا اظہار اکثر لوگوں کو ناگوار کیوں گزرتاہے؟ - Pakistan Point

Breaking

Post Top Ad

August 18, 2020

عوام کے سامنے محبت کا اظہار اکثر لوگوں کو ناگوار کیوں گزرتاہے؟

 

آپ کتنے ہی بے خبر کیوں نہ ہوں،یہ جانتے ہوں گے اتوار ،7جولائی کو منعقد ہونے والے لکس اسٹائل ایوارڈ2019 میں اداکاریاسرحسین نے اقراء عزیز کو شادی کا پیغام دے دیا ۔ یاسر نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر اپنی محبوبہ سے سوال کیا کہ کیا وہ اس سے شادی کرے گی؟اس وقت ہال میں سینکڑوں افراد موجود تھے جو تالیاں بجا نے کے ساتھ ہوٹنگ کررہے تھے اور اقراء کو ہاں کہنے پر اصرار کر رہے تھے۔
اور پھر اقرا ء نے ہاں کردی۔
اس کی ہاں سے یاسر کے سرعام محبت کے اظہار کو اور بڑوھتی ملی اور اس نے اقراء کے گالوں کو چوم لیا۔اگر چہ کچھ لوگوں نے پرپوز کرنے کے انداز کو سراہا ۔لیکن اس کے بعدانٹر نیٹ پر سرعام محبت کے اس اظہار پرگرما گرم بحث چھڑ گئی۔بہت سے لوگوںنے ا سے خوفزدہ کرنے والااور تکلیف دہ مناظر قرار دیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح سرعام محبت کا اظہار لوگوں کو پریشان کیوں کردیتا ہے ؟
ماہر نفسیات یمنیٰ عثمانی کے مطابق اس طرح عوام کے سامنے اظہار محبت تصویر کے دو رخ دکھاتا ہے۔ایک طرف تو دلوں کو گرما دیتاہے ،تو دوسری طرف بہت سے لوگوں کو اس طرح کا اندازبہت ناگوار بھی گزرتاہے۔
لیکن خاص طور پر پاکستانیوں کے لئے اظہار محبت کا یہ طریقہ دلوں کو گرمانے کے بجائے زیادہ ترناپسندیدہ کیوں ہوتا ہے ؟’’سب سے پہلے تو وہ اسے معاشرتی معیار کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ۔اور اگر اسے قبول کیا جائے تو اسے پھیلنے کا موقع ملے گا اور یہی رواج عام ہو جائے گا‘‘۔عثمانی کہتی ہیں ۔
دوسرا وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ بس عوام کے سامنے اظہار محبت ہوا اور لو گ ناراض ہوئے۔ کیونکہ اس طرح کی زبردستی اور ناخوشی لوگوں کو پریشان کردیتی ہے ۔ ندا اسلم روشن بتاتی ہیں کہ کچھ لوگوں میں اس طرح کے احساس کی وجہ ان کی زندگی میں اس چیز کی کمی بھی ہوتی ہے جس کے وہ خواہش مند ہوتے ہیں۔
’’کوئی محبوب یا محبت کرنے والا ساتھی نہ ہونا ،یا جو کسی خوف کی بناء پر محبت کا اظہار نہیں کر پاتے وہ لوگ بھی محبت کے اظہار اور انداز کو بری طرح نظر انداز کردیتے ہیں اور اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘‘انھوں نے مزید کہا۔
یہ جوڑے اس طرح سے اظہار محبت کیوں کرتے ہیں؟ 

عوام میں اظہار محبت پر پاکستانیوں کا ردعمل:

اقراء اور یاسر کے اس طرح اظہار محبت سے ہمارے معاشرے کا ایک اہم پہلوبھی سامنے آیا ہے۔اکثر لوگوںنے ٹوئٹر پر اس بارے میں کہا ہے کہ پاکستانی ،اسکرین یا حقیقت میںتشدد دیکھ کر تو ٹھیک رہتے ہیں لیکن جب پیار یا جذبات کی بات ہوتی ہے تو انھیں ناگوار گزرتی ہےاورلوگ پاکستانی معاشرے کو ایسے مسائل سے بالکل الگ کردیتے ہیں ۔اسلم وضاحت کرتی ہیں کہ تشدد کو برداشت کرنا صرف کسی ایک ملک یا علاقے ہی تک محدود نہیں ہوتا۔انسانی ارتقاء کا مرکز اس کی قربانیاں ہی رہی ہیں۔جنگ ،تشدد اور افراتفری ہر تہذیب کا حصہ رہے ہیں اس طرح انسان اس سے مقابلہ کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف ندا کہتی ہیں کہ اس کی وجہ لوگوں کے منفی خیالات بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ مثبت کے مقابلے میں منفی اثرات کو زیادہ تیزی سے قبول کرتے ہیں۔پاکستان میں یا شائدپوری دنیا میں ہی لوگوں کا اصول ہے کہ’ جیو اور جینے دو‘۔ لیکن اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔
اقراء اور یاسر کا اس طرح محبت کا اظہار بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرا لیکن ہماری دعا ہے کہ وہ آگے بہت بہترین زندگی گزاریں۔

No comments: