دو سال میں ملک کی سمت تبدیل کرنا صرف خان جانتا ہے ۔۔۔!!!جس طرح ملک کے حالات تھےانہیں ٹھیک کرنے میں کتنے سال لگتے ہیں؟وزیراعظم عمران خان نے سب کی آنکھیں کھول دیں - Pakistan Point

Breaking

Post Top Ad

August 19, 2020

دو سال میں ملک کی سمت تبدیل کرنا صرف خان جانتا ہے ۔۔۔!!!جس طرح ملک کے حالات تھےانہیں ٹھیک کرنے میں کتنے سال لگتے ہیں؟وزیراعظم عمران خان نے سب کی آنکھیں کھول دیں

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح کے ہمارے ملک کے حالات تھے ،اسے ٹھیک کرنے کے لیے چا ر پانچ سال لگتے ہیں ۔نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری ساری زندگی جدو جہد میں گزری پہلے کرکٹ اور ہسپتال کے لیے جدو جہد کی پھر سیاسی زندگی میں بڑی جدو جہد کی لیکن سب سے زیادہ جدو جہد وزیراعظم بن کر پہلے دو سالو ں میں کی ۔ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم بنا تو معیشت اور اداروں کا برا حال تھا جس کی وجہ سے صورتحال بہت زیادہ چیلنجنگ تھی ،ان دو سالوں میں ملک کی سمت تبدیل کر کے رخ اس طرف موڑ دیا جو پاکستان بنانے والوں کا خواب تھا ،اسلامی فلاحی ریاست اور مدینہ کی ریاست کی طرف ملک بڑھ رہا ۔عمران خان نے کہا کہ اس ملک کو اشرافیہ کے چھوٹے سے طبقے نے یرغمال بنا یا ہوا ہے،اگر انہیں نیب بلائے تو لوگ ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں ،اگر عدالت فیصلہ دے تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا،پہلی دفعہ اس طبقے کا احتساب ہو رہا ہے اس لیے شور مچا یا جا رہا ہے کہ ملک تباہ ہو گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا۔ اسرائیل کے بارے ہمارا موقف بڑا کلیئر ہے۔ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر ہم اسرائیل کوتسلیم کر لیں گے تو پھر کشمیر بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطین بارے ہم نے اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔سعودی عرب کیساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار مسلم دنیا کو تقسیم نہیں اکٹھا کرنا ہے۔ سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ پاکستان کے دیرینہ دوست چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ واضح ہو جانا چاہیے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چین نے ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ چین کو بھی پاکستان کی بڑی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک بھارت کو چین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چینی صدر نے رواں سال مئی میں پاکستان آنا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے دورہ تاخیر کا شکار ہوا۔ آئندہ سردیوں میں چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان متوقع ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ انرجی کے مسائل کا سوچ کر سونا مشکل ہے۔ صرف بجلی کی ڈسٹریبیوشن، چوری اور لائن لاسز کم کرنا مسئلے کا حل نہیں، جب تک بجلی کی پیداواری قیمت نیچے نہیں لائی جائے گی، مسئلہ مکمل حل نہیں ہوگا۔ ہم ایسے معاہدوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے تحت بجلی لیں یا نہیں پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ہم عذاب میں پھنسے ہوئے ہیں، بجلی کی قیمت نہ بڑھے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، حکومت بجلی کی قیمت بڑھائے تو عوام پس جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل صنعت سے وابستہ ہے، جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پچھلے سال 2 ہزار ارب قرضوں کی قسط میں ادا کیے، اس سال 2 ہزار 700 ارب کرنے ہیں۔ جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے یہ قرضوں کی ادائیگی بڑھتی ہی جائے گی۔ ہم اب حکومت کے پاور پلانٹس میں بننے والی بجلی کی قیمتوں کو بھی نیچے لائیں گے۔ حکومتی پاور پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے سے متعلق منصوبہ لا رہے ہیں۔ حکومت ایک وسیع اور جامع پاور پالیسی لے کر آ رہی ہے۔ پاور پالیسی تقریباً تیار ہے، ایک یا دو ہفتے میں عوام کے سامنے لے کر آئیں گے۔ 

No comments: